معاصرین کی آراء


چراغ جیسی آواز والا شاعر

اعجاز ؔ رحمانی کی غزلوں کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ بیروں میں ہونے کے ساتھ ساتھ دروں میں بھی ہیں۔ یہ نفسی کیفیت جو بڑی سعادت اور عطیۂ الہٰی ہے، بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اعجازؔ رحمانی اجتماعتی تجربوں اور آزمائشوں کے لمحوں میں دوسروں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے لیے ایک خلوت نامہ بھی بنا رکھا ہے۔ اس خلوت نامے میں یہ اپنی ذات کے معاملات اور بیتی ہوئی واردات پر غور کرتے ہیں۔ ان کی غزلیں ان کی اس خلوت گاہ میں ڈھلتی ہیں اور پھر ہمارے سامنےآتی ہیں۔
میں اعجازؔ رحمانی کی غزل گوئی کا مکمل تجزیہ پیش کرنے کی کوشش نہیں کررہا ہوں۔ پھر کون سا جائزہ مکمل ہوسکتا ہے کہ پڑھنے والے کو الگ الگ حوصلہ عطا ہوتا ہے۔ دین ہو، ادب ہو یا زندگی۔ اور میں نے اس پس منظر کو اس لیے اُبھارا ہے کہ شاید کسی دوسرے لکھنے والے سامنے یہ شخصی پس منظر نہ ہو۔
یہ شاعری ان کے وجود کا حصہ ہے۔ یہ شاعری ان کے دل میں احساس کے پھول کی طرح کھلتی ہے۔ میرے اس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ وہ غزل میں بھی اجتماعی اور ملی مسائلِ معاملات کو تغزل کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ تغزل شاعرانہ موسیقی، الفاظ کے آہنگ، عاشقانہ لہجے اور عزم کے ان رموز و علائم کا مجموعہ ہے جو شاعر کے تجربے میں عموم پیدا کرتے ہیں اور اس کے تجربہ کو قاری کا تجربہ بنا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ابو الخیر کشفی



جناب اعجازؔ رحمانی کا شمار اُردو زبان اور پاکستان کے نمائندہ شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف موزونیِ طبع کے زیرِ اثر شعر کہتے ہیں بلکہ ان کو فنِ عروض پر بھی عبور حاصل ہے اور پھر سونے پر سہاگا ان کا ترنم کانوں میں رس گھولنے، سامعین کو سردھننے اور محفل کو گرمانے میں کارگر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے حمد و نعت اور غزل و نظم کو یکساں معیار فراہم کیا ہے۔ کسی ایک میں بھی ان کا لہجہ کہیں پر بھی کم زور نہیں ہوتا۔
اعجازؔ رحمانی ایسے زود گو شاعر ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب انہوں نے کوئی حمد، نعمت، منقبت، سلام، قطعہ، رباعی یا غزل و نظم نہ کہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی کلیات حمد، کلیات نعت، کلیات غزل، منظور سیرت النبیؐ، منظوم سیرتِ خلیفہ اول، دوم، سوم اور چہارم کے ساتھ ساتھ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی سیرت کو بھی منظوم کرنے کا سہرا جناب اعجازؔ رحمانی کے سر ہے۔ ان کے علاوہ بچوں کے ادب پر ان کا الگ کام قابلِ ذکر ہے اور وزن رکھتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح کردوں کہ خلفائے راشدین کی سیرت کو اُردو میں منظوم کرنے کا کارنامہ بلکہ کارِ خیر عالمی سطح پر صرف اور صرف اعجازؔ رحمانی کے حصے میں آیا ہے۔ پوری دنیا اور اُردو زبان میں اس قسم کا تخلیقی کام ان سے زیادہ کسی دوسرے شاعر نے نہیں کیا۔ اس لحاظ سے جناب اعجازؔ رحمانی اپنی ذات میں انجمن ہیں اور ان تخلیقات نے ان کو اپنے عہد کا نمائندہ شاعر اور ہم عصر شعراء میں منفر و ممتاز کردیا ہے۔

شاعر علی شاعرؔ
مدیر عالمی رنگِ ادب کراچی


اعجازؔ رحمانی ایک محتاط نعت گو

اردو کا کوئی بدقسمت شاعر ہوگا جس نے اپنے مجموعۂ کلام کو مدحت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زینت نہ بخشی ہو اور جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق کئی غیر مسلم شعراء نے بھی آپؐ کے ذکرِ مبارک سے اپنے لب سخن کو لذت یاب کیا ہے۔
اردو کی نعتیہ شاعری کے ذخیرے پر نظر غائر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات سے آپ کے حسن و جمال و معجزات کے مضامین آپ سے کمال شیفتگی ، درد و فراق کا بیان، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے قرب، واقعۂ معراج، آپ کی شجاعت، سخاوت اور دیگر اخلاق حسنہ کا بیان عام ہے۔
مولانا ماہر ؔالقادری نے نعت کے حوالے سے جس ذہنی کشمکش کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے کہ: ایک سمت محبت پھرتی ہے اک سمت شریعت ہوتی ہے لیکن کیوں کہ محبت رسولؐ تو مسلمانوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور شریعت کی جگہ رواج عام نے لے لی ہے۔
چنانچہ غلبۂ محبت میں جو شعراء بہکے ہیں اور تجاوزات کا شکار ہو کر گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی کے مصداق ٹھہرے ہیں:
ان میں کچھ ’’سدرہ‘‘ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔ لیکن یہ ایک حساس موضوع ہے جو ایک وقیع مقالے کا متقاضی ہے جو بہ شرط فرصت و توفیق الہٰی لکھنے کا ارادہ ہے۔ سردست میں اس تمہید کے بعد حاصل کلام کے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اعجازؔ رحمانی صاحب کا نعتیہ کلام جو متعدد مجموعوں پر مشتمل ہے اور اب ان کے مداحوں کی قدر افزائی کے نتیجے میں کلیات نعت کی شکل میں زیر اشاعت ہے۔ ہر عیب سے یکسر پاک اور تعلیمات نبوی اور عصری مسائل کے حوالے سے سیرت کے پیغام کو عام کرنے کی کامیاب کوشش ہے جس کا لب لباب میں انہی کے ایک شعر میں پیش کر کے اپنی بات ختم کرون گا:

دوستو! آؤ ایک کام کریں
اسوۂ مصطفےٰؐ کو عام کریں

اس قدر ناشناسی کے دور میں اعجازؔ رحمانی صاحب کو مبارک باد اور ان کے مداحین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

پروفیسر عنایت علی خان


روشنی کا سفر روشنی کی طرف

اعجازؔ رحمانی میرے محبوب شاعر ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے مقصدِ حیات کے تعین کرنے میں میری رہنمائی کی ہے یہ 1986ء کی بات ہے میں نے انہیں پی این اے کے ایک جلسۂ سیرت میں پہلی بار دیکھا۔ اس خوش گلو اور خوش فکر کو سراج منیر رحمتہ للعالمین کی بارگاہ میں چراغ مدحت پیش کرتے ہوئے سنا، سیرت النبیؐ کی اس محفل نے خود میرے ذہن میں زندگی کے نصب العین کا چراغ روشن کردیا۔

شاہ مصباح الدین شکیل


اعجازؔ رحمانی کی نعتیہ شاعری

اعجازؔ رحمانی ایک جانا پہچانا نام ہے، دنیائے اردو میں بین الاقوامی سطح پر متعارف ہیں، اعجازؔ رحمانی کی شاعری بے رنگ نہیں بلکہ ایک واضح رنگ لیے ہوئے ہے اور وہ اعلائے کلمۃ اللہ اور حب رسولؐ کا رنگ ہے۔ اس اعتبار سے اعجازؔ رحمانی کی شاعری مقصدی شاعری ہے۔ وہ اپنا ایک نمایاں اسلوب اور منفرد آہنگ رکھتی ہے۔ مولانا ماہر القادری کی نعتیہ شاعری کے بعد اعجازؔ رحمانی کو یہ امتیاز حاصل ہے۔

ڈاکٹر احسان الحق


تری آواز مکے اور مدینے

ہر چند اعجازؔ رحمانی وہبی و فطری طور پر نغزگوئی کے جوہر کے ساتھ فیاضی سے نوازے گئے ہیں مگر رفتہ رفتہ ان کا مزاج و مذاق پر حب رسولؐ کا ایسا پاکیزہ اور مؤثر رنگ چڑھا کہ اس کی ابدی پاکیزگیوں اور سرمدی دل آویزیوں کو انہوں نے اپنی زندگی و شاعری کا مقصد و محور بنا لیا ہے جس کا ایک نہایت مقصد و منزہ اور غایت حسین و جمیل پہلو ان کی نعتیہ شاعری کے پیکر میں جلوہ گر ہوا یہ اللہ کی دین ہے اور واقعی یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔

افسر ماہ پوری