نعتیہ قطعات

معیار ذاتِ سیدِ ابرارؐ ہی رہے
جب بھی کسی اصول کی تعریف کیجیے

اچھائیوں کی آخری تعریف ہے یہی
اللہ کے رسولؐ کی تعریف کیجیے

*

ذکر کی محفلوں میں رہتے ہیں
شاہِ بطحاؐ دلوں میں رہتے ہیں

اُن کے دامن کو چھوڑنے والے
عمر بھر مشکلوں میں رہتے ہیں

*

خدا کی کتابوں میں قرآن جیسے
کلامِ خدا کا نزول آخری ہے

اِسی طرح سے محفلِ انبیاء میں
محمدؐ خدا کا رسول آخری ہے

*

جلوۂ مصطفیٰؐ کا صدقہ ہے
یہ جو بکھرے ہیں کائنات میں رنگ

پیرویٔ رسولِ اکرمؐ نے
بھر دیے ہیں مری حیات میں رنگ

*

ابھی تو لوگ بہت دُور ارتقاء سے ہیں
کہا یہ کس نے کوئی راہبر ضروری ہے

جو چاہتے ہیں ہو کہ معراج آدمی کو ملے
نبیؐ کے نقشِ قدم پر سفر ضروری ہے

*

حقیقتوں کا سراغ آج بھی ہمیں اعجازؔ
دیارِ سرورِ کونینؐ ہی سے ملتا ہے

خدا سے پوچھیے ذاتِ رسول اکرمؐ کو
کہ روشنی کا پتہ روشنی سے ملتا ہے

*

کہکشاں ساز ہر ایک راہ گزر ہے جس کی
ماہ و خورشید کو نقشِ کفِ پا کہتے ہیں

اُس کی عظمت کوئی قرآن سے پوچھے اعجازؔ
جس کا نام آتے ہی سب صلِّ علیٰ کہتے ہیں

*

یکساں ہیں جو تونگر و مفلس کے واسطے
گنجینۂ خلوص کے وہ دُر بتا دیئے

سرمایۂ حیات ہیں ہر شخص کے لیے
اللہ کے رسولؐ نے جو گرُ بتا دیے

*

سرورِؐ انبیاء کے صدقے میں
ہر تمنا قبول ہو کے رہی

چن لیے مصطفیؐ نے سب کانٹے
زندگی اپنی پھول ہو کے رہی

*

یہ روشنی یہ اجالے ہیں ظلمتوں کے نقیب
کسی بھی اِزم سے یارو فریب مت کھاؤ

جو چاہتے ہو کہ مل جائے ظلمتوں سے نجات
محمدِؐ عربی کے اُصول اپناؤ

*

ہے یہ تعلیمِ مصطفیٰؐ کا اثر
دل منّور، دماغ روشن ہے

نورِ احمدؐ کا دیکھیے اعجازؔ
آندھیوں میں چراغ روشن ہے

*

جبرئیلؑ اور براق کا جس میں ہے تذکرہ
روداد اِس سفر کی ہے معراجِ مصطفیؐ

تسخیرِ ماہتاب نے ثابت یہ کر دیا
معراج ہر بشر کی ہے معراجِ مصطفی

*

میں سخن ور ہوں مرا کام ہے توصیف و ثنا
مرحلہ مَدح کا آسان نہیں ہو سکتا

عمر بھر لکھتا رہوں نعتِ شہِؐ کون و مکاں
پھر بھی میں ہمسرِ حسّانؓ نہیں ہو سکتا

*

سرورِ انبیاؐ کے صدقے میں
ہر تمنا قبول ہو کے رہی

چن لیے مصطفیٰؐ نے سب کانٹے
زندگی اپنی پھول ہو کے رہی

*

چاند تاروں کی کبھی پروانہ کی
اپنی پلکوں پر سجائے ہیں چراغ

آندھیوں کو کر دیا میں نے اُداس
جب بھی مدحت کے جلائے ہیں چراغ

*

لفظ بے بس زبان ہے معذور
ہم سے ذکرِ رسولؐ کیا ہوگا

ہو کنارہ نہ جس سمندر کا
وہ سمندر عبور کیا ہوگا

*

زندگی کی اُمنگ جاگ اٹھی
کیا زمیں ہے زمیں مدینے کی

دیکھ کر مصطفیٰؐ کے روضے کو
میں دعا کر رہا ہوں جینے کی

*

ہیں سلامت جب تلک پائے طلب
جانبِ طیبہ سفر کرتے رہو

چاہتے ہو گر جہاں میں آبرو
مدحتِ خیر البشرؐ کرتے رہو

*

انسان کو سکھا دیے آدابِ زندگی
سوئے ہوئے نصیب کو بیدار کر دیا

جس راستے پہ چلنا تھا دشوار اک قدم
وہ راستہ حضورؐ نے ہموار کر دیا

*

آپؐ پر ہی ختم ہیں اُن کی حدیں
عظمتیں جو آپ سے منسوب ہیں

آپ جیسا کوئی عالم میں نہیں
آپؐ تو اللہ کے محبوب ہیں

*

انسان کی فلاح اِن ہی دائروں میں ہے
جو دائرے عمل سے بنائے ہیں آپؐ نے

تا حشر ہو نہ پائے گی کم اُن کی روشنی
ذہنوں میں جو چراغ جلائے ہیں آپؐ نے

*

آپؐ کی ذات کا یہ بھی ہے معجزہ
وجہِ تخلیقِ کون و مکاں ہو گئی

آپؐ کے جب زمیں پر قدم آگئے
یہ زمیں غیرتِ آسماں ہو گئی

*

ذرّوں کو آفتاب بنایا ہے آپؐ نے
ممنون ہے حضورؐ ہر انسان آپؐ کا

بنجر زمیں میں پھول کھلائے ہیں آپؐ نے
دنیائے رنگ و بو پہ ہے احسان آپؐ کا

*

جلوۂ مصطفیٰؐ کا صدقہ ہے
یہ جو بکھرے ہیں کائنات میں رنگ

پیرویٔ رسولِ اکرمؐ نے
بھر دیے ہیں ہر اِک حیات میں رنگ

*

ہے یہ تعلیمِ مصطفیٰؐ کا کرم
دل منّور دَماغ روشن ہیں

نور احمدؐ کا دیکھیے اعجازؔ
آندھیوں میں چراغ روشن ہیں

*

اپنے افکار سے اپنے کردار سے
مصطفیٰؐ نے بشر کو وہ ترغیب دی

جس نے انسانیت کا بھرم رکھ لیا
وہ تمدن دیا ایسی تہذیب دی

*

جن پہ قربان ہے عظمتِ دو جہاں
زاویے ایسے کردار نے دے دیے

جن کی ضو سے منّور ہیں قلب و نظر
وہ دیے ہم کو سرکارؐ نے دے دیے

*

انبیاء تو آ چکے پہلے بہت
آ گئے ہیں اب رسولوں کے رسولؐ

آپؐ سے ہے کون عظمت میں سوا
آپؐ تو ہیں سب رسولوں کے رسول

*

اپنے کردار سے اپنے اخلاق سے
کر دیا سارے کانٹوں کو پھول آپؐ نے

حشر تک کام آئیں گے انسان کے
دے دیے ایسے زرّیں اُصول آپؐ نے

*

خدا کی کتابوں میں قرآن جیسے
کلامِ خدا کا نزول آخری ہے

اِسی طرح سے محفلِ انبیاء میں
محمدؐ خدا کا رسول آخری ہے

*

بھر دیے انسان کے دامن میں پھول
مسکرا کر سیدِ ابرارؐ نے

آدمی کو کر دیا کتنا بلند
آپؐ نے اور آپؐ کے کردار نے

*

آپؐ نے روشن کیے ایسے محبت کے چراغ
آدمی کی راہ سے ظلمت گریزاں ہو گئی

ہر قدم پر کھل اٹھے امن و اخوت کے گلاب
آپؐ کے آنے سے دنیا خلد ساماں ہو گئی

*

اور تو کچھ نہیں مجھے معلوم
حرفِ اظہار لکھ رہا ہوں میں

ہے یہ اللہ کا کرم اعجازؔ
نعتِ سرکارؐ لکھ رہا ہوں میں

*

تھی تذبذب میں بشر کی زندگی
اعتبارِ دین و دنیا دے دیا

سرورِ عالم نے ہر انسان کو
زندہ رہنے کا سلیقہ دے دیا

*