ہم راز ستارے نہ کبھی شام کے نکلے

ہم راز ستارے نہ کبھی شام کے نکلے
آنسو ہی شبِ ہجر مرے کام کے نکلے

خلوت میں بھی دل سے نہ گئی خواہشِ دنیا
فرصت میں بھی لمحات نہ آرام کے نکلے

اس پر تو کوئی حرف نہ آیا دم پُرسش
سب نقص ہمارے دل ناکام کے نکلے

ساقی ہو کوئی رند ہو ، واعظ ہو کہ صوفی
مارے ہوئے سب گردشِ ایام کے نکلے

پرہیز گاری پہ جنہیں ناز بہت تھا
پروردہ وہی کوچۂ بدنام کے نکلے

تہمت کی طرح ساتھ اسیری نے نہ چھوڑا
ہم بندۂ بے دام اُسی دام کے نکلے

مدت ہوئی ایک ایک گلی یاد ہے اس کی
وہ شہر کہ جس شہر سے دل تھام کے نکلے

وحشت میں بھی آباد رہا گھر کا تصور
حلقے سے کبھی ہم نہ در و بام کے نکلے

تجدیدِ تعلق پہ کیا غور جب اعجازؔ
آغاز میں پہلو کئی انجام کے نکلے