وہ لوگ جو احساس کی دولت نہیں رکھتے

وہ لوگ جو احساس کی دولت نہیں رکھتے
دنیا میں کسی سے بھی محبت نہیں رکھتے

ہم اپنے خدوخال کو دیکھیں بھی تو کیسے
آئینہ تو ہم رکھتے ہیں صورت نہیں رکھتے

وحشت ہی تشخص ہے ہم ارباب جنوں کا
سر پر کوئی دستار فضیلت نہیں رکھتے

اخلاق سے بڑھ کر کوئی سرمایہ نہیں ہے
مفلس ہیں جو اخلاق کی دولت نہیں رکھتے

آزاد وہ ہوتے ہوئے آزاد نہیں ہیں
پر رکھتے ہیں پرواز کی جرأت نہیں رکھتے

روداد غمِ عشق یہاں کون سنے گا
یہ اشک ہمارے کوئی قیمت نہیں رکھتے

کچھ ایسے ہیں بگڑے ہوئے حالات کے گیسو
ہم کوئی بھی شے حسبِ ضرورت نہیں رکھتے

جس جا بھی ٹھہر جائیں وہی گھر ہے ہمارا
ہم گھر بھی در و بام کی صورت نہیں رکھتے

شامل ہیں ہم اعجازؔ انہیں دیدہ وروں میں
بینائی تو رکھتے ہیں بصیرت نہیں رکھتے