مدینے سے واپسی

مدینے سے واپسی

واپسی کے لیے اُٹھ رہے ہیں قدم
دیکھ لیتے ہیں مڑ مڑ کے روضے کو ہم

جس قدر تھی زیارت کی دل کو خوشی
اُس سے بڑھ کر یہاں سے ہے جانے کا غم

دیدۂ تر ہے اشکوں کا سیلاب ہے
غرق ہیں آنسوؤں کے سمندر میں ہم

دیکھیے کب میسر ہوں یہ روز و شب
چھوڑ کر جا رہے ہیں دیارِ کرم

دِن یہ دکھلائے اعجازؔ اللہ پھر
یہ دعا ہے کہ اک بار اور آئیں ہم