روضۂ رسولؐ پر حاضری

روضۂ رسولؐ پر حاضری

بڑھ رہے ہیں مدینے کی جانب قدم
کھو گئے ہیں ابھی سے اُجالو میں ہم

اِک ہجومِ تجلی ہے ہر گام پر
پُرکشش ہیں بہت راہ کے پیچ و خم

ہر قدم بڑھتی جاتی ہیں بے تابیاں
جس قدر ہوتے جاتے ہیں نزدیک ہم

لو وہ حدِّ دیارِ نبیؐ آ گئی
داخلِ خلد اب ہو رہے ہیں قدم

یہ زمیں جس پہ ہے روضۂ مصطفیٰؐ
آسماں کی جبیں اِس پر رہتی ہے خم

آج طیبہ میں اِذنِ حضوری ملا
فضل اللہ کا، مصطفیٰؐ کا کرم

ناز کیسے نہ ہو اپنی تقدیر پر
اللہ اللہ دیارِ نبیؐ اور ہم

آگئی راس شہرِ نبیؐ کی فضا
یوں لگا آگئے جیسے اپنوں میں ہم

اپنے لب پر سجا کر درود و سلام
ہیں غلام آج حاضر شفیعِؐ امم

حال دل آج اشکوں سے کر لے بیاں
گنبدِ سبز ہے سامنے چشمِ نم

آپؐ سے اِک گزارش ہے محبوبؐ رب
حشر میں آپؐ رکھ لیں ہمارا بھرم

صرف اور صرف ہے آپؐ کا آسرا
کوئی اپنا نہیں ہے خدا کی قسم

آپؐ کی ذات معراجِ انسانیت
آپؐ کا نام نامی دلوں پر رقم

تاجِ شاہی سے بڑھ کر ہے نعلینِ پا
آپؐ مخلوق میں سب سے ہیں محترم

نامرادوں کی ہیں جب مراد آپؐ ہی
آپؐ کو چھوڑ کر اب کہاں جائیں ہم

وقتِ رخصت قریب آرہا ہے حضورؐ
لاکھ اٹھاتے ہیں اٹھتے نہیں ہیں قدم

کیسے ٹھہریں کہ ممکن ٹھہرنا نہیں
کتنے مجبور حالات سے ہیں آج ہم

آپؐ کے در سے جانا گوارا نہیں
کیسے روکیں کہ رکتا نہیں سیلِ غم

سب کے سب محترم، سب کے سب معتبر
جتنے لمحے گزارے یہاں بیش و کم

الوداع الوداع اے دیارِ نبیؐ
جا رہے ہیں یہیں چھوڑ کر دل کو ہم

دل میں اعجازؔ ہے روضۂ مصطفیٰؐ
دور ہو کر بھی اب دُور ہوں گے نہ ہم