آج کی رات ہے کس قدر محترم

آج کی رات ہے کس قدر محترم
عرش تک آ گئے مصطفیٰؐ کے قدم

عبد و معبود میں رابطہ ہوگیا
فاصلے گھٹ گئے قربتوں کی قسم

کس قدر آدمی کو ملیں عظمتیں
مصطفیٰؐ نے کیا خوب کارِ اہم

گرم بستر تھا زنجیر جنبش میں تھی
رُک گئے گردشِ روز و شب کے قدم

ہے یہ تاریخ کا منفرد واقعہ
رکھ لیا آدمی کا خدا نے بھرم

مصطفیٰؐ سے بڑا کوئی انسان ہے
مقتدر، معتبر، محترم، محتشم

جاکے سدرہ پہ روحُ الامیںؑ رُک گئے
ؐلا مکاں تک گئے سرورِ محترم

بام و در جگمگانے سے کیا فائدہ
دل کے اندر جلاؤ چراغِ حرم

تم بھی اعجازؔ معراج پر کچھ لکھو
کر کے آراستہ بزمِ لوح و قلم