عظمتِ انسان کا ضامن ہے مقامِ مصطفےؐ

عظمتِ انسان کا ضامن ہے مقامِ مصطفےؐ
فرض ہے ہر آدمی پر احترامِ مصطفیٰؐ

دیکھتے ہی دیکھتے رحمت کے بادل چھا گئے
ہو گیا جب عام دنیا میں پیامِ مصطفیٰؐ

رحمتہ للعالمیںؐ کے جب سے آئے ہیں قدم
ساری دنیا بن گئی دارُالسلامِ مصطفیٰؐ

رحمتِ عالم کا صدقہ ہے یہ ساری کائنات
دل دھڑکتا ہے دو عالم کا بنامِ مصطفیٰؐ

آدمی تو آدمی پتھر صدا دینے لگے
سن لیا اِک بار جس نے بھی کلامِ مصطفیٰؐ

آپؐ کی سیرت سے ملتا ہے اُجالا آج بھی
آج بھی ہے جلوہ گر ماہِ تمامِ مصطفیٰؐ

ایک لمحہ بھی ہمارے تو تصرف میں نہیں
صبح صبحِ مصطفیٰؐ تھی، شام شامِ مصطفیٰؐ

بھیڑ ہے تشنہ لبوں کی کوثر و تسنیم پر
دیکھیے کس کس کے ہاتھ آتا ہے جامِ مصطفیٰؐ

آدمی کی مشکلیں اعجازؔ حل ہو جائیں گی
تم ذرا نافذ تو ہونے دو نظامِ مصطفیٰؐ