میرے ہونٹوں پر ہے مدحت سیدِ ابرارؐ کی

میرے ہونٹوں پر ہے مدحت سیدِ ابرارؐ کی
آج قسمت جاگ اٹھی گھر کے در و دیوار کی

اِس حقیقت سے بھلا جرأت کسے انکار کی
پتھروں نے دی گواہی احمدِؐ مختار کی

ذکرِ سرکارؐ دو عالم اور سیرت کے بغیر
دوستو! کافی نہیں مدحت لب و رخسار کی

ذاتِ سرکارؐ دو عالم تک پہنچ جاتی ہے بات
گفتگو ہوتی ہے جب اخلاق کی، کردار کی

نقشِ پائے مصطفیٰؐ پر ہم سفر کرتے رہے
اس طرح سے راہ ہم نے خلد کی ہموار کی

سرورِ عالم کا روضہ ہو نظر کے سامنے
بس یہی دولت ہے میرے دیدۂ بیدار کی

نقشِ پائے مصطفیٰؐ سے عظمتیں منسوب ہیں
اُسوۂ خیر البشرؐ ہے روشنی افکار کی

آپؐ کے آنے سے لوگوں کو ملی راہِ نجات
قافلے کو تھی ضرورت قافلہ سالار کی

زندہ رہنے کے سکھائے آپؐ نے آکر اصول
رسم ڈالی آپؐ نے احسان کی، ایثار کی

جب بھی چاہو دشمنی کو دوستی میں ڈھال دو
سیرتِ خیرالبشرؐ تردید ہے تلوار کی

یوں تو ہیں اعجازؔ دنیا میں مقامات اور بھی
بات ہے کچھ اور لیکن روضۂ سرکارؐ کی