کم نہیں حبِّ سرورؐ بہت ہے

کم نہیں حبِّ سرورؐ بہت ہے
مجھ کو دولت میسر بہت ہے

کس طرح چھوڑ دوں میں مدینہ
یہ زمیں بندہ پرور بہت ہے

اب کسی ذکر کی کیا ضرورت
ذکرِ محبوب داوَر بہت ہے

کیوں کسی اور در پر میں جاؤں
سرورِ دیں کا اِک در بہت ہے

دل نہیں ہے ابھی اُن کے مقابل
گرد اِس آئینہ پر بہت ہے

غم کی رُوداد اُن کو سنا دی
اے مرے دیدۂ تر بہت ہے

ساری اُمت کے تشنہ لبوں کو
چشمِ ساقیٔ کوثر بہت ہے

دامنِ مصطفیٰؐ چاہتا ہوں
گرمیٔ روزِ محشر بہت ہے

اُن پہ اعجازؔ قربان کردو
بوجھ شانوں پہ یہ سر بہت ہے