طیبہ کی سمت جب بھی نسیمِ سحر گئی

طیبہ کی سمت جب بھی نسیمِ سحر گئی
پڑھتی ہوئی دُرود ادب سے گزر گئی

یہ فیض آفتاب نبوتؐ کا فیض ہے
ظلمت کی گود چاند ستاروں سے بھر گئی

آیا جو لب پہ نام رسولِ اَنام کا
اک روشنی سی میرے لہو میں اتر گئی

پتوار ہاتھ آتے ہی خلقِ رسولؐ کی
ڈوبی ہوئی خلوص کی کشتی ابھر گئی

توڑا طلسمِ کفر صدائے رسولؐ نے
صدیوں کی نیند سے ہمیں بیدار کر گئی

وجہِ سکونِ جاں ہے غلامی رسولؐ کی
دل کو ہر ایک رنج سے آزاد کر گئی

پہلے بھی تھی بہار مگر اِس قدر نہ تھی
جب آگئے حضورؐ تو ہر شے نکھر گئی

ناکامیوں میں دل کو بڑا حوصلہ ملا
جب اُسوۂ رسولؐ کی جانب نظر گئی

رفتار دیکھ کر شبِ اسریٰ حضورؐ کی
اعجازؔ کائنات کی گردش ٹھہر گئی