نہ بجھیں دیے عمل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

نہ بجھیں دیے عمل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے
دلِ مضطرب سنبھل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

کسی طور بھی جناں سے کوئی کم نہیں ہے گوشہ
کہیں بیٹھ جاؤ چل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

یہ ہجومِ جانثاراں یونہی تا ابد رہے گا
یہاں رنگ ہیں ازل کے یہ دیار مصطفیٰ ہے

جسے مانگنا ہو مانگے وہ دعائیں زندگی کی
یہاں تذکرے اجل کے یہ دیار مصطفیٰؐ ہے

یہاں عرضِ حال دل کا ہے زباں سے کیا تعلق
یہاں صرف آنکھ چھلکے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

دل غمزدہ مبارک تجھے عافیت کی منزل
یہاں غم نہیں ہیں کل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

یہ ادب کی منزلیں ہیں یہ خرد کے مرحلے ہیں
یہاں کام کیا خلل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

مرے دوش پر تھے کتنے ابھی بوجھ لغزشوں کے
یہاں ہو گئے ہیں ہلکے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے

ہے قدم قدم پہ لازِم یہاں احتیاط اعجازؔ
چلے سانس ادب میں ڈھل کے یہ دیارِ مصطفیٰؐ ہے