عمل نہیں ہے زباں پر ہے صرف نامِ رسولؐ

عمل نہیں ہے زباں پر ہے صرف نامِ رسولؐ
ہمارے دل میں بس اتنا ہے احترامِ رسولؐ

اندھیرا ہو نہ سکا دُور دل کی بستی سے
گلی گلی میں جلائے دیے بنامِ رسولؐ

کسی کسی کو یہ منصب نصیب ہوتا ہے
ہر ایک شخص سمجھتا نہیں مقامِ رسولؐ

چلیں تو وقت چلے اور رُکیں تو وقت رُکے
زمامِ کار زمانے کی تھا خرامِ رسولؐ

کوئی بلالؓ، کوئی زیدؓ اور کوئی سلمانؓ
عظیم لوگ ہیں جتنے بھی ہیں غلامِ رسولؐ

وہ دل جو جلوۂ توحید سے نہیں روشن
ہوا ہے اُس میں نہ ہوگا کبھی قیامِ رسولؐ

چھپے یہ چاند کہ ہو جائے آفتاب غروب
چراغ چلتے رہیں گے مگر بنامِ رسولؐ