آمد سے مصطفیٰؐ کی ہر اک شے بدل گئی

آمد سے مصطفیٰؐ کی ہر اک شے بدل گئی
ظلمت جو دہر کی تھی اُجالے میں ڈھل گئی

تعلیم سے رسولؐ کی روشن ہوئے دماغ
ہر قلب میں خلوص کی قندیل جل گئی

حرمال نصیب سایۂ رحمت میں آگئے
انساں کے سر سے دھوپ مصائب کی ٹل گئی

قصرِ ستم میں آگ لگا دی حضور نے
ہر ایک انتقام کی تلوار گل گئی

ذرّوں کو آفتاب کا ہمسر بنا دیا
دنیا میں آپؐ آئے تو دنیا بدل گئی

جب بھی پڑھا درود رسالت مآبؐ پر
کترا کے مجھ سے گردشِ دوراں نکل گئی

سنتے ہی چارہ سازِ دو عالم کا تذکرہ
بیمارِ جبر و ظلم کی حالت سنبھل گئی

چھوٹا ہے جب سے دامنِ اخلاقِ مصطفیٰؐ
اپنے گلے پہ اپنی ہی تلوار چل گئی

اعجازؔ اُن کے نام کا اعجاز دیکھیے
بابِ اثر کی سمت دُعا برمحل گئی