حمدِ رب کے لیے مصطفیؐ چاہیے

حمدِ رب کے لیے مصطفٰیؐ چاہیے
نعتِ خیرالبشرؐ کو خدا چاہیے

لب نہیں آنکھ سے التجا چاہیے
احترامِ درِ مصطفٰیؐ چاہیے

ناز کر اپنی قسمت پہ نوعِ بشر
مل گئے مصطفٰیؐ اور کیا چاہیے

سوئے کعبہ چلو، سوئے طیبہ چلو
گر تمہیں خلد کا راستہ چاہیے

خودبخود اُن کے جلوے نظر آئیں گے
صاف کردار کا آئینہ چاہیے

!اور کوئی نہیں راستا دوستو
مصطفٰیؐ سے ملو گر خدا چاہیے

خود کو فرقوں میں بانٹوں نہ اہلِ حرم
کیا تمہیں پھر کوئی کربلا چاہیے

جسم کیا روح کے زخم بھر جائیں گے
کوچۂ مصطفٰیؐ کی ہوا چاہیے

دُور ہوتے ہوئے بھی وہ نزدیک ہیں
قربتوں کے لیے فاصلہ چاہیے

سخت اعجازؔ مدحت کا ہے مرحلہ
کچھ سلیقہ تو، کچھ حوصلہ چاہیے