لوہا پگھل رہا تھا نبیؐ کی زبان سے

لوہا پگھل رہا تھا نبیؐ کی زبان سے
دشمن کا تیر کیسے نکلتا کمان سے

ہٹ جائے ان کی ذات اگر درمیان سے
برسے زمیں پہ آگ ابھی آسمان سے

دریافت ہو رہی ہیں ابھی اُن کی عظمتیں
دنیا گزر رہی ہے ابھی امتحان سے

بازارِ مصطفٰیؐ کی طرف گاہکو چلو
سودا ملے گا خلد کا ہر اِک دکان سے

محدود ہیں ہماری نگاہوں کے زاویے
واقف خدا ہے صرف محمدؐ کی شان سے

گردان صبح و شام ہے نامِ رسولؐ کی
یہ کائنات گونج رہی ہے اذان سے

ذہنوں کو کس نے بخشی ہے دولت یقین کی
کس نے خرد کو دور کیا ہے گمان سے

آرام گاہِ سرورِ کونینؐ ہے جہاں
رتبہ ہے اُس زمیں کا بلند آسمان سے

اعجازؔ ایسے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں
روضہ دکھائی دیتا ہے جن کے مکان سے