زباں پہ صرف ہیں دعوے مثال کوئی نہیں

زباں پہ صرف ہیں دعوے مثال کوئی نہیں
دیارِ عشقِ نبیؐ میں بلالؓ کوئی نہیں

حضورؐ نے تو ہمیں یاد عمر بھر رکھا
ہمیں حضورؐ کا لیکن خیال کوئی نہیں

نبیؐ کے دامنِ رحمت سے ہیں جو وابستہ
عروج ان کے لیے ہے زوال کوئی نہیں

جو بے نیاز طلب ہو وہی محبت ہے
اسی لیے مرے لب پر سوال کوئی نہیں

ہر ایک وار زمانے کا ہنس کے سہتا ہوں
حضورؐ کا یہ کرم ہے ملال کوئی نہیں

حضورؐ ہی کی رسالت ہے اوّل و آخر
مجھے یقین تو ہے احتمال کوئی نہیں

خدا کے فضل سے لکھتا ہوں نعتِ شاہِ اُممؐ
کرم یہ ان کا ہے میرا کمال کوئی نہیں

حضور ہی کا کرم کام آئے گا اعجازؔ
وہاں کہ جس جگہ پرُسانِ حال کوئی نہیں