سیرت کا پیغام تو لوگو روز سنایا جاتا ہے

سیرت کا پیغام تو لوگو روز سنایا جاتا ہے
لیکن کیا انسانوں کو سینے سے لگایا جاتا ہے

پیار کی پھوار سے نفرت کے شعلوں کو بجھایا جاتا ہے
جشنِ فتحِ مکّہ لوگو! ایسے منایا جاتا ہے

قربانی سے ملتی ہے، دنیا ہو یا دین کی عظمت
پھول کی خاطر کانٹوں کو بھی دل سے لگایا جاتا ہے

بدر و اُحد کے شہداء کی کانوں میں صدائیں آتی ہیں
دین کی قدروں کو جب بھی دنیا میں مٹایا جاتا ہے

فطرت سے کب باز آتے ہیں جھوٹے اور منافق لوگ
آج بھی سچے لوگوں پر الزام لگایا جاتا ہے

ایسا بھی موڑ آتا ہے اعجازؔ وفا کی منزل میں
خود سفینوں کو اپنے ساحل پہ جلایا جاتا ہے