یہ چاند ستارے اور سورج ، یہ چرخِ کہن سرکارؐ کا ہے

یہ چاند ستارے اور سورج، یہ چرخِ کہن سرکارؐ کا ہے
یہ سبزۂ و گل سرکارؐ کے ہیں، یہ سب گلشن سرکارؐ کا ہے

آنکھوں کو بچھائے بیٹھے ہیں، ہم آس لگائے بیٹھے ہیں
جب اُن کی ہو مرضی آجائیں، یہ گھر آنگن سرکارؐ کا ہے

یہ ارض و سما ، یہ شام و سحر، قربان ہیں اُن کی عظمت پر
اُس دل کا مقدر کیا کہیے، جو دل مسکن سرکارؐ کا ہے

قرآن کی صورت جب بولیں وہ، بند لبوں کے درکھولیں
جو رُوح کے زخم کا ہے مرہم، ہے کس کا سخن، سرکار ؐ کا ہے

ہے لب پہ صدائے صلِّ علیٰ، کچھ یاد نہیں ہے اِس کے سوا
کیا خوب ہے منظر روضے کا، دیوانہ مگن سرکارؐ کا ہے

از عرشِ بریں تا فرشِ زمیں، کوئی نہیں اُن سا کوئی نہیں
روشن ہے اُنہی کے جلوؤں سے، یہ دل درپن سرکارؐ کا ہے

وہ اُن کا پسینہ ہے جس پر، قربان ہے رحمت کی شبنم
خوشبو کا خزانہ ہے جس میں، وہ پھول بدن سرکارؐ کا ہے

یہ بات بروزِ حشر عیاں، ہر دشمن پر ہو جائے گی
بوجہل کی صف میں ہوگا کھڑا، جو بھی دشمن سرکارؐ کا ہے

قربان میں سب اعزاز کروں، میں کس برتے پر ناز کروں
اعجازؔ مرا تو کچھ بھی نہیں، سب تن من دھن سرکارؐ کا ہے