یہی ہے خواب اور ناخوب ہونا

یہی ہے خواب اور ناخوب ہونا
ترا طالب مرا مطلوب ہونا

اگر مقصود ہے ساحل شناسی
تو پھر طوفان سے کیا مرعوب ہونا

مسافر کے ارادے توڑتا ہے
شجر کا سائے سے منسوب ہونا

سماعت کے دریچے کھولتا ہے
کسی کا منفرد اسلوب ہونا

فضائیں شہر کی ہیں حشر ساماں
قیامت ہے ترا محبوب ہونا

ذرا سی بات پر بگڑے ہوئے ہو
بڑا دشوار ہے ایوب ہونا

خرد کو دیکھ کر وحشت بداماں
مجھے اچھا لگا مجذوب ہونا

مری تاریخ میں لکھا ہوا ہے
امیر شہر کا مصلوب ہونا

بھروسہ ہے مجھے اعجازؔ خود پر
مری فطرت نہیں مغلوب ہونا