موت کے خواب زندگی سے ملے

موت کے خواب زندگی سے ملے
یہ اندھیرے بھی روشنی سے ملے

مصلحت سے کبھی نہ کام کیا
جس سے دل چاہا ہم اُسی سے ملے

اُٹھ گیا اعتبارِ بینائی
اتنے آزار روشنی سے ملے

پوچھنے کو مزاج پھولوں کا
بے کلی میں کلی کلی سے ملے

وہ ملا بھی تو یوں ملا ہم سے
اجنبی جیسے اجنبی سے ملے

ظلم کے حوصلے زمانے کو
میرے احساسِ کمتری سے ملے

ایک وہ شخص ہی ملا نہیں ہم کو
یوں تو ملنے کو ہم سبھی سے ملے

گلشنِ زیست میں صبا کی طرح
دشمنوں سے بھی خوش دلی سے ملے

ترک ہم نے سفر کیا اعجازؔ
راستے جب نہ راستی سے ملے