خیال و خواب کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں

خیال و خواب کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں
کچھ ایسے گھر بھی ہیں ذہنوں میں جو تعمیر ہوتے ہیں

اُجالے کی ضمانت تو نہیں چہرے کی تابانی
چراغ اُن کو بھی کہتے ہیں جو بے تنویر ہوتے ہیں

بصارت سے نہیں اُن کا تعلق ہے بصیرت سے
جبینِ وقت پہ جو فیصلے تحریر ہوتے ہیں

یہ دنیا ہے یہاں دستور ہے بس ایک ہی رائج
جنہیں توقیر ملتی ہے وہ بے توقیر ہوتے ہیں

ہماری زندگی گزری ہے خوابوں کے جزیرے میں
ہمارے خواب کب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں

جو دشمن ہیں اصولوں کے جو ہیں انصاف کے قاتل
انہیں ہاتھوں سے اکثر فیصلے تحریر ہوتے ہیں

یہ مجبوری تو ہوتی ہے لبوں پر مہرِ خاموشی
مگر چہرے سبھی حالات کی تصویر ہوتے ہیں

مری دہلیز پر یہ پھول تازہ کون رکھتا ہے
جہاں جاتا ہوں میں یہ پھول دامن گیر ہوتے ہیں

نگہباں چین سے سوتا نہیں ہے ایک پل اعجازؔ
قفس میں لب کشا جب حلقۂ زنجیر ہوتے ہیں