کوششِ ضبط کو ناکام کیے دیتے ہیں

کوششِ ضبط کو ناکام کیے دیتے ہیں
میرے آنسو مجھے بدنام کیے دیتے ہیں

دور منزل بھی نہیں پاؤں میں چھالے بھی نہیں
ہمسفر راہ میں کیوں شام کیے دیتے ہیں

گل فروشانِ چمن آڑ لیے پھولوں کی
آبرو باغ کی نیلام کیے دیتے ہیں

مملکت دل کی جو ہے عالم ہستی میں عزیز
جا اُسے آج ترے نام کیے دیتے ہیں

کر کے حل جام میں اے گردشِ دوراں تجھ کو
ماورائے سحر و شام کیے دیتے ہیں

ہے اگر اور کوئی گردشِ دوراں کا علاج
ٹکڑے ٹکڑے ابھی ہم جام کیے دیتے ہیں

حال دل پوچھتے ہو ڈال کے ماتھے پہ شکن
آپ آغاز کو انجام کیے دیتے ہیں

تو نہیں ہے تری خوشبو سے مہکتا ہے یہ گھر
مجھ کو حیران در و بام کیے دیتے ہیں

خاموشی بھی مری اعجازؔ گراں ہے اُن پر
وہ مجھے موردِ الزام کیے دیتے ہیں