ابھی مجھ سے بظاہر ہے دور دور ہوا

ابھی مجھ سے بظاہر ہے دور دور ہوا
دیا بجھانے کو آجائے گی ضرور ہوا

کبھی صبا، کبھی صرصر، کبھی نسیمِ سحر
خود اپنی چال پہ رکھتی نہیں عبور ہوا

لہو سے میں نے بھی اپنے جلا دیئے ہیں دیئے
ہَوا پہ تجھ کو ہے اپنی بہت غرور ہَوا

چمن میں اس نے ہَوا دی ہے آتشِ گل کو
بنی ہوئی ہے مگر کیسی بے قصور ہَوا

یہ کاربند ہے خود ساختہ اصولوں پر
کسی سے طے نہیں کرتی کوئی امور ہَوا

ہَوا یہ کیسی چلی ہے بنام فکرِ جدید
کہ بھر گئی ہے ہر ایک ذہن میں فتور ہَوا

اُڑائے پھرتی ہے جو آسمانِ شہرت پر
وہ صرف ہوتی ہے کچھ دیر کی حضور ہَوا

گزر گئی ہے جو چھو کر ترا حسیں آنچل
قدم قدم پہ بہکتی ہے بے شعور ہَوا

ضرور شہرِ نگاراں سے آتی ہے اعجازؔ
لٹاتی پھرتی ہے صحرا میں رنگ و نور ہَوا