خزاں کے دور میں دونوں بڑے مظلوم ہوتے ہیں

خزاں کے دور میں دونوں بڑے مظلوم ہوتے ہیں
پرندے گھر سے، سائے سے شجر محروم ہوتے ہیں

مگر احساس سے آگے بھی ہے امکان کی منزل
کچھ ایسے بھی جزیرے ہیں جو نامعلوم ہوتے ہیں

گلستاں سے قفس تک شور ہوتا ہے سلاسل کا
پرندے اپنی آزادی سے جب محروم ہوتے ہیں

رموزِ عشق سب کی سمجھ میں تو نہیں آتے
کسی کی گفتگو کے مختلف مفہوم ہوتے ہیں

قیامت کا تصور شہرِ جاں میں اُن کے دم سے ہے
وہ چہرے دیکھنے میں جو بڑے معصوم ہوتے ہیں

تدبر ہے، فراصت ہے، محبت ہے، مروت ہے
جہاں میں روشنی کے بھی کئی مفہوم ہوتے ہیں

بڑی ہے اہمیت اس نام کی جو دل پہ لکھا ہو
مگر کچھ نام تو کتبوں پہ بھی مرقوم ہوتے ہیں

چھپا لیتے ہیں زخموں کو جو پردے میں تبسم کے
یہی تو لوگ پھولوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں

تمہیں بھی جذبۂ خدمت گزاری چاہئے اعجازؔ
جو خادم پہلے بنتے ہیں وہی مخدوم ہوتے ہیں