ممکن نہیں ہے منظرِ مہتاب دیکھنا

ممکن نہیں ہے منظرِ مہتاب دیکھنا
آنکھوں کا مشغلہ ہے ابھی خواب دیکھنا

پہلے ہی دوستوں کے کچھ احسان کم نہیں
اب اور گل کھلائیں گے احباب دیکھنا

ٹوٹا اگر نہ بارشِ پیہم کا سلسلہ
حالات شہر کے پس سیلاب دیکھنا

شیخِ حرم کی سن کے دل آزار گفتگو
منبر کو دیکھنا کبھی محراب دیکھنا

جب ٹوٹ جائیں تیرے تلاطم میں حوصلے
اس وقت ناخدا مرے اعصاب دیکھنا

دریا تو بارشوں سے ڈوبو دے گا شہر کو
آئے گا آنسوؤں کا جو سیلاب دیکھنا

تعبیر کے فریب میں رہتا ہے مبتلا
انسان چھوڑتا ہی نہیں خواب دیکھنا

ان سے ہی باغباں کو شدید اختلاف ہے
گلشن کو چاہتے ہیں جو شاداب دیکھنا

اعجازؔ جب ہوں سامنے رخسار آتشیں
ہر اشک غم کو صورتِ سیماب دیکھنا