لوگو! اپنی بربادی کا خود ہی ذمہ دار ہوں میں

لوگو! اپنی بربادی کا خود ہی ذمہ دار ہوں میں
زنگ نے جس کو چاٹ لیا ہے اک ایسی تلوار ہوں میں

دنیا والو! دیکھ لو مجھ کو کتنا دنیا دار ہوں میں
ہونٹوں پر رکھتا ہوں تبسم اندر سے بیمار ہوں میں

میرا لہو بے رنگ ہے‘ میرے آنسو بھی بے قیمت ہیں
وہ منصب کب مجھ کو ملا جس منصب کا حقدار ہوں میں

آج سنائی دی ہے مجھ کو میرے اندر کی آواز
آج مجھے احساس ہوا ہے سویا نہیں بیدار ہوں میں

دیکھ لیں آکر اپنا چہرہ اپنے اندر کا احوال
سنگ زنوں سے جاکر کہہ دو آئینہ بردار ہوں میں

حالاں کہ دو گام بھی چلنا مجھ کو ہے دشوار بہت
حکم اگر یہ آپ کا ہے تو چلنے کو تیار ہوں میں

راہ طلب میں سایا میرے پیروں کی زنجیر ہوا
سورج مجھ سے پوچھ رہا ہے دھوپ سے کیوں بیزار ہوں میں

جس کی فصیلوں پر کل میں نے پیار کے دیپ جلائے تھے
شہر وہی ہے لوگ وہی ہیں رزق صلیب و دار ہوں میں

جانے پہچانے چہروں سے کھاتا ہوں اعجازؔ فریب
دنیا تو بیزار نہیں ہے دنیا سے بیزار ہوں میں