خونِ تمنا صرف کیا تھا کل جس کی تیاری میں

خونِ تمنا صرف کیا تھا کل جس کی تیاری میں
آج وہ دستاویز نہیں ہے یادوں کی الماری میں

دامن کیا ہاتھوں سے چھوٹا خواب بھی اُس کے روٹھ گئے
آج تلک میں دیکھ رہا ہوں سپنے ہی بیداری میں

گرمی سے احساس کی شعلے بن جاتے ہیں آنسو بھی
جیسے آگ لگا دیتی ہے بارش بھی پھلواری میں

ہاتھ میں اپنے اپنا گریباں پتھر اپنے اپنا ہاتھ
اور تو کوئی شغل نہیں ہے وحشی کا بیکاری میں

خواہش کی دنیا ہے رنگیں دُور کے ڈھول سہانے ہیں
عقل بھی ساتھ کہاں دیتی ہے غربت میں ناداری میں

جاؤں کدھر یہ سوچ رہا ہوں عقل و جنوں کی سرحد پر
ایک قدم آسانی میں ہے ایک قدم دشواری میں

مصنوعی چہروں کی چمک سے خیرہ نظر ہوجاتی ہے
یعنی خاص چمک ہوتی ہے ہر جنسِ بازاری میں

دور اُفق پر ڈوب گیا ہے جب سے چاند اُمیدوں کا
رات کی صورت دن بھی اپنے کٹتے ہیں بیزاری میں

کس کی شکایت کس کا شکوہ اعجازؔ اپنا کام کرو
دنیا تو مصروف رہے گی اپنی دنیا داری میں