کیا گفتگو کے ہوئے سارے ہی فن تمام

کیا گفتگو کے ہوئے سارے ہی فن تمام
خاموشیوں کی زد میں ہے شہرِ سخن تمام

جب آفتاب ہجر کی وادی میں سوگیا
جلنے لگا چراغ کی صورت بدن تمام

قسمت سے اس کا سایۂ دیوار مل گیا
اک پل میں دور ہوگئی ساری تھکن تمام

شاید نہ آسکے گی اب آئندہ بھی بہار
ایسا جلا ہے آتش گل سے چمن تمام

اب شہر میں کسی کے بدن پر نہیں لباس
اک شخص نے خرید لیے پیرہن تمام

یہ کون مجھ سے صحرا میں ملنے کو آگیا
اک پل میں ہوگیا مرا دیوانہ پن تمام

منزل کسی غریب کو کیسے نصیب ہو
جو راہبر تھے بن گئے وہ راہزن تمام

جانِ غزل کو آج پسند آگئی غزل
اعجازؔ آج ہوگئی مشقِ سخن تمام