مسکراتا ہوں فاقہ مستی میں

مسکراتا ہوں فاقہ مستی میں
دل کشادہ ہے تنگ دستی میں

کوئی انساں ملے تو بات کروں
سب فرشتے ہیں میری بستی میں

کھو چکے ہیں جو دولتِ احساس
ہیں وہ مصروف مے پرستی میں

ہر طرف ہے ہجوم خلقت کا
اک تماشا ہے شہر ہستی میں

یہ ستارہ نژاد کیا جانیں
کیا بلندی ہے میری پستی میں

آئینے کے سبھی مقابل ہیں
محو ہیں سب ہی خود پرستی میں

رنگ ہے جن میں اور ہے نہ خوشبو
گل کھلے ایسے باغِ ہستی میں

بس یہی نا کہ جائے گی عزت
کیا ملے گا دراز دستی میں

کون میری صدا سنے اعجازؔ
کوئی تو ہو خدا کی بستی میں