گھبرا کے عافیت کا نشاں ڈھونڈتے رہے

گھبرا کے عافیت کا نشاں ڈھونڈتے رہے
ہم شہر بے اماں میں اماں ڈھونڈتے رہے

بے کار ہوگئیں مری آنکھوں کی کاوشیں
دامن کسی کا اشکِ رواں ڈھونڈتے رہے

بے چہرگی کے غم میں تھے کچھ لوگ مبتلا
کچھ لوگ آئینوں کی دکاں ڈھونڈتے رہے

جتنے بھی تھے نشانے خطا ہوگئے تمام
جب تیر مل گیا تو کماں ڈھونڈتے رہے

ایک ایک گام پر تھا قیامت کا سامنا
شہرِ طرب میں راحتِ جاں ڈھونڈتے رہے

سوئے ہوئے تھے لوگ چراغوں کے شہر میں
اک ہم کہ بے چراغ مکاں ڈھونڈتے رہے

اعجازؔ چھوڑ کر ہمیں تنہا گزر گئی
اور ہم سراغ عمرِ رواں ڈھونڈتے رہے