ہوا ہے حال یہ بارش کی مہربانی سے

ہوا ہے حال یہ بارش کی مہربانی سے
زمیں کے زخم ہرے ہوگئے ہیں پانی سے

بہے ہیں اشک شبِ غم بڑی روانی سے
تمام رات جلے ہیں چراغ پانی سے

نہ آئی کام مرے جرأت لبِ اظہار
وہ بدگمان ہوا اور خوش بیانی سے

مجھے بھی چہرا شناسی کا آگیا ہے ہنر
ملا کمال یہ دشمن کی مہربانی سے

وصال و ہجر کی روداد میں سناؤں کسے
ابھی میں خود بھی نہیں مطمئن کہانی سے

کسی سے کچھ نہ کہا اور کہہ دیا سب کچھ
زباں کا کام لیا میں نے بے زبانی سے

کبھی چراغ کبھی چاند ہوں کبھی سورج
مرا وجود ہے ظلمت کی مہربانی سے

میں چاہتا ہوں تمہارا بھرم بھی رہ جائے
نکال دو مرے کردار کو کہانی سے

ابھی زمیں سے مرا رابطہ نہیں اعجازؔ
گزر رہا ہوں ابھی دور آسمانی سے