رنگ اتنا تو مرا خون وفا رکھتا ہے

رنگ اتنا تو مرا خونِ وفا رکھتا ہے
اس کے ہاتھوں کو بھی پابندِ حنا رکھتا ہے

خودسے ملنے کی بھی فرصت نہیں ملتی اُس کو
اپنے اطراف وہ دیوار انا رکھتا ہے

نرم ہو جاتی ہے سوکھے ہوئے کانٹوں کی زباں
دشت میں جب بھی قدم آبلہ پا رکھتا ہے

اس قدر خوف زدہ مجھ سے نگہباں ہے مرا
مجھ کو زنداں میں بھی زنجیر بہ پا رکھتا ہے

زندگی تجھ سے بہت لوگ ہیں اُکتائے ہوئے
ورنہ تلوار پہ کون اپنا گلا رکھتا ہے

آگیا راس اسے کوچۂ وحشت کا مزاج
پھول سے جسم پہ کانٹوں کی قبا رکھتا ہے

مجھ سے کترا کے گزر جاتا ہے طوفانِ بلا
کوئی میرے لیے ہونٹوں پہ دُعا رکھتا ہے

میں کسی بات کی تردید نہیں کر سکتا
روز ہی مجھ پہ وہ الزام نیا رکھتا ہے

اُس کے دکھ کو کوئی اعجازؔ سمجھ ہی نہ سکا
اپنے ہونٹوں پہ تبسم جو سدا رکھتا ہے