دور کرتی ہے سب ملال ہوا

دور کرتی ہے سب ملال ہوا
جب بھی چلتی ہے حسبِ حال ہوا

ہم تو کیا حسن کے جزیرے میں
بھول جاتی ہے اپنی چال ہوا

اس نے کیا مسکرا کے دیکھ لیا
ہوگئے دل کے سب ملال ہوا

ڈوب جاتی ہے رنگ و خوشبو میں
چھیڑتی ہے جب اس کے بال ہوا

اس کے کوچے میں آکے بیٹھ گئی
ہوگئی تھک کے جب نڈھال ہوا

جب بھی کوئی دیا بجھاتی ہے
چھوڑ جاتی ہے اک سوال ہوا

آئینے عکس کو ترستے ہیں
لے اُڑی گردِ ماہ و سال ہوا

چھین کر روشنی چراغوں کی
خود بھی ہے پائمال ہوا

ذہن میں ہے یہی خلش اعجازؔ
کیوں ہے محروم خد و خال ہوا