غم یہ ہے کہ اب غم کا مداوا نہیں کوئی

غم یہ ہے کہ اب غم کا مداوا نہیں کوئی
زخمی ہیں مرے خواب مسیحا نہیں کوئی

اس شہر میں احباب تو میرے ہیں بہت سے
شائستۂ آدابِ تمنا نہیں کوئی

صحرا کی کڑی دھوپ ہے اور پیاسے مسافر
اک جال سرابوں کا ہے دریا نہیں کوئی

بستی پہ مسلط ہیں مری خوف کے سائے
دستک پہ مری گھر سے نکلتا نہیں کوئی

میں عشق کی اس آخری سرحد پہ کھڑا ہوں
جاؤں تو کہاں جاؤں میں رستا نہیں کوئی

آزادیٔ اظہار کا موسم ہے میں چپ ہوں
لہجہ ہی محبت کا سمجھتا نہیں کوئی

فرصت ہی نہیں کون کسی شخص کو دیکھے
یہ دور وہ ہے جس میں کسی کا نہیں کوئی

جس دن سے تری یاد کا موسم گیا گھر سے
بادل بھی تو اب کھل کے برستا نہیں کوئی

اعجازؔ کئی دن سے کسے ڈھونڈ رہے ہو
اب شہرِ نگاراں میں بھی رہتا نہیں کوئی