طنز کو ہنس کے درگز کرنا

طنز کو ہنس کے درگز کرنا
یہ تو شعلوں پہ ہے سفر کرنا

صاف کہہ دو جو بات کہنی ہو
کیا کسی سے اگر مگر کرنا

ذات سے کائنات کی جانب
کتنا دشوار ہے سفر کرنا

جانتے ہو تنک مزاج ہے وہ
بات کرنا تو مختصر کرنا

کتنا مشکل ہے اک دیئے کے لیے
ہجر کی رات کو سحر کرنا

اس کے ہوتے ہوئے ہے ناممکن
ذات کو اپنی معتبر کرنا

!سایۂ گل میں بیٹھنے والو
گفتگو ہم سے دار پر کرنا

یہ ہنر اس کو خوب آتا ہے
جانتا ہے دلوں میں گھر کرنا

رہ نہ جائے کوئی کمی اعجازؔ
عشق کرنا تو ٹوٹ کر کرنا