بند میری آنکھوں کے جب بھی باب ہوتے ہیں

بند میری آنکھوں کے جب بھی باب ہوتے ہیں
اس کا شہر ہوتا ہے اس کے خواب ہوتے ہیں

سطحِ آب کی زینت کچھ حباب ہوتے ہیں
واقعی جو موتی ہیں وہ زیرِ آب ہوتے ہیں

مرمریں بدن جن کے لب گلاب ہوتے ہیں
ایسے لوگ کم کم ہی دستیاب ہوتے ہیں

مسکرانے والوں کو یہ خبر نہیں ہوتی
آنسوؤں سے وابستہ انقلاب ہوتے ہیں

صبح کے اُجالوں میں ڈھونڈتا ہے تعبیریں
دل کو کون سمجھائے خواب‘ خواب ہوتے ہیں

پھول جیسے بچوں میں یہ سمجھ نہیں ہوتی
تتلیوں کو چھونے سے پر خراب ہوتے ہیں

چاند ہر دریچے سے جھانکتا نہیں شب کو
صرف چند چہرے ہی انتخاب ہوتے ہیں

حسبِ حال ہوتا ہے سب پہ حال دل تحریر
جس قدر بھی چہرے میں سب کتاب ہوتے ہیں

جیتے جی تو وہ دامن آئے گا نہ ہاتھ اعجازؔ
جاں سے جو گزرتے ہیں کامیاب ہوتے ہیں