اپنے دشمن کے ساتھ شامل ہوں

اپنے دشمن کے ساتھ شامل ہوں
خود ہی مقتول خود ہی قاتل ہوں

بے حسی نے بنا دیا پتھر
جو دھڑکتا نہیں ہے وہ دل ہوں

میرے نقشِ قدم سلامت ہیں
آج بھی میں چراغِ منزل ہوں

آئینہ دیکھتا ہوں حیرت سے
آج میں اپنے خود مقابل ہوں

کتنے طوفان میرے اندر ہیں
پھر بھی خاموش مثلِ ساحل ہوں

اپنی آسائشوں کا ہوں قیدی
اب تو پرواز کے بھی قابل ہوں

مجھ سے در در پھرا نہیں جاتا
میں تو بس ایک در کا سائل ہوں

خواہشوں کا اسیر ہوں اعجازؔ
آج بھی قیدِ بے سلاسل ہوں