گردشوں کے اثر سے نکلوں گا

گردشوں کے اثر سے نکلوں گا
جب کفِ کوزہ گر سے نکلوں گا

وہ جدھر بھی بچھائے گا کانٹے
پھول بن کر اُدھر سے نکالوں گا

آج پھر شہر میں ہے سناٹا
آج پھر اپنے گھر سے نکلوں گا

چاند تارے کریں گے میرا طواف
جب کسی چشمِ تر سے نکلوں گا

پتھروں کی مزاج پُرسی کو
کوچۂ شیشہ گر سے نکلوں گا

ساتھ لے جاؤں گا ہنر سارے
جب بھی شہرِ ہنر سے نکلوں گا

توڑ دی میں نے ذات کی دیوار
آج اپنے اثر سے نکلوں گا

کرکے روشن چراغ پلکوں پر
شب گزیدہ سحر سے نکلوں گا

توڑ کر اپنے پاؤں کی زنجیر
خواہشِ بال و پر سے نکلوں گا

غرق دریائے عشق ہوں اعجازؔ
لے کے موتی بھنور سے نکلوں گا