حوصلے رات ترے دیدۂ تر کم نکلے

حوصلے رات ترے دیدۂ تر کم نکلے
کیا غضب ہے کہ سمندر سے گہر کم نکلے

کل سرِ شہر خِرد دیدہ وروں کا تھا ہجوم
لیکن اس بھیڑ میں اربابِ نظر کم نکلے

کر لیا ایک تبسم نے دلوں کو تسخیر
کام تلوار سے نکلے تو مگر کم نکلے

شہر میں جشنِ چراغاں کا جب آیا موسم
روشنی جن کا مقدر تھی وہ گھر کم نکلے

لالۂ گل مہ و انجم سے گواہی لے لو
کون کہتا ہے مرے زخمِ جگر کم نکلے

ہر جگہ بھیڑ فرشتوں کی نظر آئی مجھے
اس بھرے شہر میں نکلے تو بشر کم نکلے

شعبدے حسن کے دیکھے ہیں بہت سے ہم نے
اس کی مانند مگر شعبدہ گر کم نکلے

گھر بھی ہم جا نہ سکے بعدِ اسیری اعجازؔ
جو کہ تھے حاملِ پرواز وہ پر کم نکلے