چشمِ نم تیری نوازش بھی تو ہوسکتی ہے

چشمِ نم تیری نوازش بھی تو ہوسکتی ہے
دشتِ بے آب میں بارش بھی تو ہوسکتی ہے

یہ جو بے فصل نظر آتی ہے گلشن میں بہار
مرے زخموں کی نمائش بھی تو ہوسکتی ہے

مرا چہرا جو دکھائی نہیں دیتا مجھ کو
آئینہ ساز کی سازش بھی تو ہوسکتی ہے

ہر قدم راہ محبت میں سنبھل کر رکھنا
آدمی سے کوئی لغزش بھی تو ہوسکتی ہے

جرم ناکردہ پہ احساسِ ندامت ہو جسے
ایسے مجرم کی سفارش بھی تو ہوسکتی ہے

یہ جو ماتھے پہ ہے تحریر شکن کی صورت
کوئی حسرت کوئی خواہش بھی تو ہوسکتی ہے

کیا ضروری کہ تمسخر ہی اُڑائے دنیا
مرے جذبوں کی ستائش بھی تو ہوسکتی ہے

وہ بظاہر جو تبسم ہے سجائے لب پر
اس کے دل میں کوئی رنجش بھی تو ہوسکتی ہے

میں تو اعجازؔ سمجھتا ہوں محبت کا مزاج
رد میری کوئی گزارش بھی ہوسکتی ہے