عشق نے کار بے مثال کیا

عشق نے کار بے مثال کیا
ہجر کو موسمِ وصال کیا

دور رہ کے بھی وہ رہا مجھ میں
اس نے کتنا مرا خیال کیا

ہم نے اک شخص کی خوشی کے لیے
خود کو آسودۂ ملال کیا

تو نے پوچھا نہ زندگی ہم کو
ہم نے تیرا بہت خیال کیا

آئینہ دے کے ہوگئے خاموش
ہم نے اس سے عجب سوال کیا

اک نیا زخم دے گیا کوئی
جب بھی زخموں کا اندمال کیا

جان سے ہم تو ہاتھ دھو بیٹھے
دے کے دل تم نے کیا کمال کیا

نقص اپنے ہی کچھ نکل آئے
اس سے جب رابطہ بحال کیا

دوستی جس سے ہم نے کی اعجازؔ
ہم کو اس نے ہی پائمال کیا