دورانِ جستجو تھکن آزار نہ ہو جائے

دورانِ جستجو تھکن آزار نہ ہو جائے
سایہ ہی کہیں راہ کی دیوار نہ ہو جائے

شعلہ نہ بجھنے پائے چراغِ اُمید کا
جب تک کہ شامِ غم سحر آثار نہ ہو جائے

!اتنا خیال راہِ طلب کے مسافرو
منزل پہ ختم جذبۂ ایثار نہ ہو جائے

سورج کی اک کرن بھی نہ گھر میں اُتر سکے
اتنی بلند ہجر کی دیوار نہ ہو جائے

اک دل اور اس میں اتنی تمناؤں کا ہجوم
اس آئینے سے عکس ہی بیزار نہ ہو جائے

انساں کو اپنی شکل بھی آتی نہیں نظر
جب تک کہ صاف شیشۂ کردار نہ ہو جائے

تیرا بڑا کرم تیری آمد کا شکریہ
اے باد صبحِ نو کوئی بیدار نہ ہو جائے

آئے تو ہو خلوص کے موتی لیے ہوئے
اعجازؔ سرد گرمیٔ بازار نہ ہو جائے