جو دل میں حبِّ انام رکھتے ہیں

جو دل میں حبِّ رسولِؐ انام رکھتے ہیں
وہ اپنے لب پہ درود و سلام رکھتے ہیں

بصد خلوص، بصد احترام رکھتے ہیں
حبیبِؐ رب کا جو ہونٹوں پہ نام رکھتے ہیں

جنہیں ذرا سی بھی ہے شہرِ علم سے نسبت
وہ بس چراغ جلانے سے کام رکھتے ہیں

ہے یہ بھی صدقۂ تعلیمِ سرورؐ عالم
کہ ہم شعور حلال و حرام رکھتے ہیں

ہماری تشنہ لبی کا خیال ہے ان کو
وہ اپنے ہاتھ میں کوثر کا جام رکھتے ہیں

خدا کے دین کی خاطر کٹا دیں سر اپنا
یہ حوصلہ بھی نبیؐ کے غلام رکھتے ہیں

وہ مدینہ کے ذرّوں کو غور سے دیکھو
جوابِ جلوۂ ماہِ تمام رکھتے ہیں

قریب آتی نہیں ان کے گردشِ دوراں
جو قصدِ کوچۂ خیر الانامؐ رکھتے ہیں

جنہیں غلامیِ آقاؐ کا ہے شرف حاصل
معاشرے میں وہ اعلیٰ مقام رکھتے ہیں

رہیں سکون سے گھر میں بھی گھر کے باہر بھی
وہ لوگ جو کہ نبیؐ کا نظام رکھتے ہیں

حبیبِؐ رب سے محبت کا جن کو دعویٰ ہے
وہ آخرت کے لیے انتظام رکھتے ہیں

عمل جو کرتے ہیں اعجازؔ ان کی سیرت پر
نظر میں اپنی وہ عالم تمام رکھتے ہیں