زہے نصیب میرے لب پہ نعت آئی ہے

زہے نصیب میرے لب پہ نعت آئی ہے
یہ شغل وہ ہے کہ جو شغلِ کبریائی ہے

حضورؐ آپ نے صرف آپ ہی نے پائی ہے
وہ ایک رات جو صبحوں پہ مسکرائی ہے

وہی تو اصل میں تصویر ہے مسلماں کی
حضورؐ آپ کی سیرت نے جو بنائی ہے

جہاں کسی کا سہارا بھی کام آ نہ سکا
حضورؐ آپ کی تعلیم کام آئی ہے

نجات مل گئی ظلمت سے نامرادی کی
کہ جب چراغِ مدینہ سے لو لگائی ہے

جواب آپؐ کی صورت کا ہے نہ سیرت کا
فدا جمال ہے، قربان پارسائی ہے

خطاب کوہِ صفا، گفتگوئے عرش بریں
اک ابتدائی ہے منزل ایک انتہائی ہے

پلٹ کے جا نہیں سکتا میں اب مدینے سے
بڑے ہی کام کی میری شکستہ پائی ہے

عمل سے خالی تھی فردِ عمل سرِ محشر
حضورؐ بات مری آپؐ نے بنائی ہے

یہ چند نعت کے اشعار اور کچھ آنسو
تمام عمر کی میری یہی کمائی ہے

مرے حضورؐ کی رحمت کے سامنے اعجازؔ
سمندر ایک ہے قطرہ، پہاڑ رائی ہے