جب بھی سوئے کوچۂ خیرالبشرؐ جاتا ہے دل

جب بھی سوئے کوچۂ خیرالبشرؐ جاتا ہے دل
بہرِ پابوسی براہ چشمِ تر جاتا ہے دل

ہاتھ ملتی ہے خجالت سے غمِ دنیا کی دھوپ
سائے میں جب سبز گنبد کے ٹھہر جاتا ہے دل

جذبۂ حبِّ نبیؐ کی پرورش کرتے رہو
آدمی زندہ نہیں رہتا جو مر جاتا ہے دل

کب ہے پابندِ سلاسل جذبۂ حبِّ نبیؐ
زد سے مشکل کی بہ آسانی گزر جاتا ہے دل

ذہن کے در کھولتا ہے ذکرِ معراجِ رسولؐ
جسم رہتا ہے زمیں پر عرش پر جاتا ہے دل

میری منزل تو دیار سرورؐ کونین ہے
اس طرف انسان جاتا ہے جدھر جاتا ہے دل

ہے دیار رحمۃ للعالمیںؐ میں کیا کشش
آدمی اک بار جائے عمر بھر جاتا ہے دل

خوب ہے اعجازؔ یہ چشمِ تصوّر خوب ہے
میں تو روزانہ نہیں جاتا مگر جاتا ہے دل