لوگو! کوئی جواب درِ مصطفیؐ کا ہے

لوگو! کوئی جواب درِ مصطفیؐ کا ہے
ہر ذرّہ آفتاب درِ مصطفیؐ کا ہے

خاک درِ رسولؐ ہے غازہ بنی ہوئی
رُخ پر مرے شباب درِ مصطفیؐ کا ہے

اِس دل کی دھڑکنیں بھی عبادت سے کم نہیں
جس دل میں اضطراب درِ مصطفیؐ کا ہے

!میری بلا سے کوئی کہیں جائے دوستو
میرا تو انتخاب در مصطفیؐ کا ہے

مقبول ہو رہے ہیں دعاؤں کے سلسلے
ہر لمحہ مستجاب در مصطفیؐ کا ہے

ہوتی ہیں بارشیں یہاں رحمت کی رات دن
موسم ہی لاجواب درِ مصطفیؐ کا ہے

کیوں پوچھتے ہو میرے اِرادے کو بار بار
کہہ تو دیا جناب درِ مصطفیؐ کا ہے

عظمت نہ مل سکے گی کسی کو مرے بغیر
ہر در سے یہ خطاب درِ مصطفیؐ کا ہے

اعجازؔ مجھ کو مل گئی تعبیر خلد کی
آنکھوں میں میری خواب درِ مصطفیؐ کا ہے