قبلِ حضورؐ بھی دیپ تھے روشن لیکن اِتنا نور نہ تھا

قبلِ حضورؐ بھی دیپ تھے روشن لیکن اِتنا نور نہ تھا
خلق و مروت کا لوگوں میں عام کہیں دستور نہ تھا

آپؐ نے محنت کی عظمت کا لوگوں کو احساس دیا
آپؐ سے پہلے دنیا میں خوشحال کوئی مزدور نہ تھا

پیار سے پتھر دل والوں کو آپ نے ہی تسخیر کیا
آپ کے خلق سے وار کسی تلوار کا بھی بھرپور نہ تھا

آپؐ نے خود ہی دین کی خاطر رنج اُٹھائے دنیا میں
آپؐ کے ماتھے پر ہو شکن اللہ کو یہ منظور نہ تھا

آپ کے دامن سے وابستہ جب تک ہم تھے راحت تھی
سنگِ تعصب پہلے بھی تھے وار مگر بھرپور نہ تھا

آج تو سب کچھ ڈوب گیا ہے نفرت کے طوفانوں میں
اُمیدوں کا ساحل ہم سے پہلے اِتنا دُور نہ تھا

آپ کا رستا چھوڑنے والے رحمت سے محروم ہوئے
آج ہے جیسا مغرور انساں ایسا کبھی مغرور نہ تھا

عزت، عظمت، شہرت، سب کچھ آپ کی مدحت کا صدقہ
آپ کی نسبت سے پہلے اعجازؔ کہیں مشہور نہ تھا