دیکھا ہے بس اِک بار ہی دربارِ مدینہ

دیکھا ہے بس اِک بار ہی دربارِ مدینہ
اب تک ہیں نظر میں در و دیوارِ مدینہ

اللہ جسے چاہے عطا کر دے بصیرت
ہر شخص پہ کھلتے نہیں اسرارِ مدینہ

نفرت کا یہاں ایک بھی کانٹا نہ ملے گا
گلزارِ مدینہ ہے یہ گلزارِ مدینہ

اُس ذہن کے ہوتے ہی نہیں بند دریچے
مل جائے جسے دولتِ افکارِ مدینہ

نزدیک مرے آ نہیں سکتا غمِ دوراں
ہے سر پہ مرے سایۂ دیوارِ مدینہ

مسرور ہوں مصروف ہوں طیبہ کے سفر میں
یہ خاک نہیں سر پہ ہے دستارِ مدینہ

آنکھوں سے ادا ہونے لگے شکر کے سجدے
آئے جو نظر دُور سے مینارِ مدینہ

آتی ہی نہیں راس اُسے آزادیٔ دنیا
وہ دل کہ جو ہو جائے گرفتارِ مدینہ

پڑھتا ہوا میں نعت پہنچ جاؤں گا اعجازؔ
جب یاد کریں گے مجھے سرکارِ مدینہ