دیوار و در کی دیکھیے کیا آن بان ہے

دیوار و در کی دیکھیے کیا آن بان ہے
روشن نبیؐ کے ذِکر سے میرا مکان ہے

ذاتِ حضور ایسا وسیلہ ہے مستقل
معبود اور عبد کے جو درمیان ہے

ہم اُمتی ضرور ہیں شاہِ انامؐ کے
یہ زندگی ہمارے لیے امتحان ہے

سرکارؐ کی زبان سے پتھر پگھل گئے
کہنے کو تو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے

ہے غازۂ نجوم و قمر جس کی خاک پا
ذرّہ بھی اُس کی راہ کا سورج سمان ہے

گر چاہو عافیت تو مدینے چلے چلو
طیبہ تو سب کے واسطے دارُالامان ہے

بے قیدِ وقت پڑھتے رہیں گے دُرود ہم
جب تک ہمارے جسم میں موجود جان ہے

مانو نبیؐ کی بات کسی عذر کے بغیر
محکم یقیں وہی ہے کہ جو بے گمان ہے

اعجازؔ یہ بھی سرورِؐ عالم کا ہے کرم
مجھ جیسے بے عمل پہ بھی رب مہربان ہے